← All writings
· Grief · 2 min read

نہیں غم کی لمبی یہ رات: ایک اجنبی کے نام دلاسا

شعورِ منزل کے سرورق پر لکھا یہ مصرع ہر اس شخص کے لیے ہے جو غم کی کسی رات سے گزر رہا ہے۔

نہیں غم کی لمبی یہ رات: ایک اجنبی کے نام دلاسا

شعورِ منزل کے سرورق پر ایک مصرع لکھا ہے جو کتاب کھولنے سے پہلے ہی قاری کا ہاتھ تھام لیتا ہے:

نہیں غم کی لمبی یہ رات، سن
اے اجنبی! میری بات سن

یہ اجنبی کون ہے؟

یہ اجنبی کوئی بھی ہو سکتا ہے: وہ شخص جو آج کسی نقصان سے گزرا ہے، وہ دل جو کسی اپنے کو کھو بیٹھا ہے، یا شاید ہم خود، جو اپنے ہی غم میں اپنے آپ سے اجنبی ہو گئے ہیں۔ شاعر اس اجنبی کو نصیحت نہیں کرتا، بس اتنا کہتا ہے: میری بات سن۔

رات کتنی ہی لمبی ہو

غم کی رات ہمیشہ اپنی اصل سے لمبی محسوس ہوتی ہے۔ گھڑی کی سوئیاں آہستہ چلتی ہیں اور صبح بہت دور لگتی ہے۔ مگر رات کا اپنا ایک قانون ہے: وہ ڈھلتی ضرور ہے۔ یہ مصرع اسی سچائی کی یاد دہانی ہے کہ یہ رات بھی، جتنی بھی لمبی ہو، ہمیشہ کی نہیں۔

غم کو جھٹلانا آسان نہیں، اور ضروری بھی نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ یقین رکھنا کہ صبح آنی ہے، دل کو وہ سہارا دیتا ہے جس کے بغیر سفر بہت مشکل ہو جاتا ہے۔


In English

The line on the cover of Shaur-e-Manzil, “Nahin gham ki lambi ye raat, sun / Ae ajnabi! Meri baat sun”, speaks to anyone passing through a night of grief: this night of sorrow will not last; listen, stranger, hear me out. It does not lecture. It simply sits beside you and reminds you that every night, however long, ends in morning.

اگر آپ یا آپ کا کوئی اپنا ایسی کسی رات سے گزر رہا ہے، تو یہ کتاب راستے میں ایک خاموش ہم سفر بن سکتی ہے۔

احمد بن راشد

More writings