کبھی کبھی ایک شعر پوری کتاب کا خلاصہ بن جاتا ہے۔ شعورِ منزل کے صفحات میں یہ شعر بھی کچھ ایسا ہی ہے، ایک سوال کی صورت میں ایک جواب:
جو تُو نے اللّٰہ سے لَو لگائی تو دل میں خوفِ زوال کیسا
لَو لگانا کیا ہے؟
لَو لگانا یعنی دل کا رُخ ایک طرف کر دینا۔ چراغ کی لَو کو دیکھیے، ہوا کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، وہ اوپر ہی کی طرف اٹھتی ہے۔ جو دل اللّٰہ سے جُڑ جائے، وہ بھی حالات کے جھونکوں میں اپنا رُخ نہیں بدلتا۔
ہم سب کے دل میں کسی نہ کسی زوال کا ڈر چھپا ہوتا ہے: کامیابی کے چھن جانے کا، اپنوں کے بدل جانے کا، وقت کے ہاتھ سے نکل جانے کا۔ یہ شعر ہمیں نرمی سے یاد دلاتا ہے کہ جب سہارا وہ ذات ہو جسے کبھی زوال نہیں، تو پھر ڈر کس بات کا؟
یقین کی کشتی
اسی یقین کو ایک اور شعر یوں بیان کرتا ہے:
جس کی کشتی کو تھام لے وہ تو ڈوبنے کا خیال کیسا
طوفان آتے ہیں، لہریں اٹھتی ہیں اور کشتی ڈگمگاتی بھی ہے، مگر جس کی کشتی کو اللّٰہ تھام لے، اس کی کہانی ڈوبنے پر ختم نہیں ہوتی۔
In English
“Jo tu ne Allah se lau lagayi, to dil mein khauf-e-zawaal kaisa”: once your heart is tied to Allah, what fear of decline could remain? Like a flame that keeps rising however strong the wind, a heart turned toward Allah does not lose its direction. We all fear losing something, whether success, people or time. When your support is the One who never declines, that fear loses its hold.
شعورِ منزل میں ایسے ہی آسان لفظوں میں گہری باتیں ہیں۔ اگر یہ شعر دل کو لگا ہو تو پوری کتاب آپ کی منتظر ہے۔
