← All writings
· Faith · 2 min read

رحیم وہ ہے: کامیابی، شہرت اور شکر

جب شہرت اور کامیابی ملے تو یاد رکھنے کی بات کیا ہے؟ شعورِ منزل کے ایک شعر کی روشنی میں۔

رحیم وہ ہے: کامیابی، شہرت اور شکر

کامیابی ملتی ہے تو اکثر ہم اسے اپنی محنت، اپنی ذہانت اور اپنی قسمت کا نتیجہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہ شعر اسی لمحے ہمارا ہاتھ تھام کر ایک سوال پوچھتا ہے:

رحیم وہ ہے، رحم بھی اس کا، عطا بھی اس کی، کرم بھی اس کا
یہ تیری شہرت، یہ کامیابی، تو اس میں تیرا کمال کیسا

کمال کس کا؟

محنت اپنی جگہ ضروری ہے، مگر وہ توفیق جس سے محنت ممکن ہوئی، وہ صحت جس نے ساتھ دیا، وہ لوگ جو راستے میں ملے اور وہ دروازے جو ایک کے بعد ایک کھلتے چلے گئے، یہ سب کس کی عطا تھی؟ شعر کا جواب سیدھا ہے: رحم بھی اسی کا، عطا بھی اسی کی، کرم بھی اسی کا۔

شکر، غرور کا علاج

جو شخص اپنی کامیابی کو عطا سمجھتا ہے، وہ اس پر غرور نہیں کرتا بلکہ سر جھکا کر شکر کرتا ہے۔ اور شکر کرنے والا دل کامیابی کے چھن جانے سے بھی کم ڈرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دینے والا کون ہے، اور وہ دینا جانتا ہے۔


In English

“Raheem woh hai, reham bhi us ka, ata bhi us ki, karam bhi us ka. Ye teri shohrat, ye kamyabi, to is mein tera kamaal kaisa.” He is the Merciful: the mercy, the gifts and the grace are all His. So this fame and this success of yours, what part of it is truly your own doing? Hard work matters, but the strength to work, the people we met and the doors that opened were all given. A heart that sees success as a gift answers it with gratitude, not pride.

شعورِ منزل میں ایسے ہی سادہ لفظوں میں زندگی کے گہرے سوال ہیں۔ اگر یہ بات دل کو لگی ہو تو پوری کتاب آپ کی منتظر ہے۔

احمد بن راشد

More writings